ممبئی، 26؍ جون (ایس او نیوز؍ایجنسی) مہاراشٹر کے سابق وزیر داخلہ انل دیشمکھ پر شکنجہ کستے ہوئے ای ڈی نے جمعہ کو ممبئی اور ناگپور میں ان کے خلاف چھاپے مار کارروائی کی۔ان چھاپوں کے ساتھ ہی ریاست میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ گیاہے۔ ایک بار پھر مودی حکومت پر اس الزام کا اعادہ کیا جارہاہے کہ وہ مرکزی ایجنسیوں کو اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف استعمال کررہی ہے جبکہ بی جےپی کی مہاراشٹر اکائی نے ای ڈی اور مرکزی ایجنسی کی وکالت کرتے ہوئے کہا ہے کہ انل دیشمکھ کے خلاف ای ڈی کی جانچ سے سیاست کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔
ای ڈی نے 6 مقامات پر چھاپے مارے: انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی )نے جمعہ کو ورلی میں واقع انل دیشمکھ کے بنگلہ دیانیشوری اور ناگپورمیں واقع رہائش گاہ ساگر بھاتیوار سمیت 6 مقامات پر چھاپہ مار ے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ایجنسی ان 40کمپنیوں سے انل دیشمکھ کے براہ راست یا بالواسطہ وابستہ ہونے کی جانچ کررہی ہے جن پر ایجنسی کے بقول انل دیشمکھ کا کنٹرول ہے ۔ واضح رہے کہ ای ڈی نےاین سی پی کے سنیئر لیڈر انل دیشمکھ کے خلاف منی لانڈرنگ کا کیس درج کیا ہے ۔
چھاپے سے قبل ڈپٹی کمشنر راجو بھجبل سے پوچھ تاچھ: اطلاع کے مطابق جمعرات کو ایجنسی نے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجو بھجبل سے پوچھ تاچھ کی اوراس کے بعد ہی جمعہ کو انل دیشمکھ کےخلاف چھاپہ مار کارروائی کی گئی ہے ۔یا در ہے کہ اس سے قبل ای ڈی نے انل دیشمکھ کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ناگپور کے ایک تاجر اور دو چارٹرڈ اکاؤنٹ کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے۔اس وقت اس نے انل دیشمکھ سے وابستہ کئی دستاویزات ضبط کرنے کا دعویٰ کیاتھا۔ اس بیچ ای ڈی نے انل دیشمکھ پر بد عنوانی کا الزام لگانے اور سی بی آئی جانچ کی اپیل کرنے والی خاتون وکیل جے شری پاٹل کا بھی بیان درج کرلیا ہے۔مذکورہ خاتون وکیل اور ممبئی کے سابق پولیس کمشنر پرم بیر سنگھ کی پٹیشن پر ہی سی بی آئی نے انل دیشمکھ کے خلاف ابتدائی جانچ کی اور پھر کیس درج کرلیا۔ دونوں نے سابق وزیر داخلہ پر 100کروڑ کی بدعنوانی کا الزام عائد کیا ہے۔ پرم بیر سنگھ خود بھی الزامات کے گھیرے میں ہیں۔
سیکریٹری اور اسسٹنٹ سے پوچھ تاچھ: اطلاع کے مطابق ای ڈی نے ناگپور اور ممبئی سمیت جن 6مقامات پر چھاپہ مارکارروائی کی ہے ان میں انل دیشمکھ کےپرسنل سیکریٹری سنجیو پلانڈے اور پرسنل اسسٹنٹ کندن شندے کے گھر بھی شامل ہیں ۔ای ڈی ذرائع کے بقول پرسنل سیکریٹری پلانڈے اور پرسنل اسسٹنٹ کندن شندے کے گھر چھاپہ مار کارروائی کے بعد دونوں کو بلارڈ پیئر میں واقع ای ڈی کے دفتر طلب کرکے کئی گھنٹے پوچھ تاچھ کی گئی۔
شرد پوار نے اسے بوکھلاہٹ کا نتیجہ قرار دیا: این سی پی سربراہ شرد پوار نے ای ڈی کی کارروائی کو بوکھلاہٹ کا نتیجہ قراردیاہے۔ان کےمطابق اب تک کی جانچ میں چونکہ کچھ بھی حاصل نہیں ہوا اس لئے اب یہ دیکھا جارہاہے کہ کیا انہیں کسی اور طریقے سے ہراساں کیا جاسکتاہے؟ پونے میں نامہ نگاروں کے سوالوں کے جواب میں شرد پوار نے کہا ہے کہ ’’اس سے پہلے کچھ مرکزی ایجنسیوں نے ان کے بیٹے پر بھی نظر عنایت کی تھی.... جہاں تک میں جانتا ہوں انہیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ اس لئے بوکھلاہٹ میں یہ جاننے کی کوشش کی جارہی ہے کہ کیا کسی اور طریقےسے دیشمکھ کو ہراساں کیا جاسکتاہے؟‘‘ اس کیلئے مودی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ملک کے سینئرلیڈر اور این سی پی صدر نے کہا ہے کہ ’’ہمارے لئے یہ سب چیزیں نئی نہیں ہیں۔ انل دیشمکھ پہلے شخص نہیں ہیں (جنہیں اس طرح کی کارروائی کا سامنا ہے۔) برسراقتدار طبقےکی جانب سے طاقت کے استعمال کا یہ نیا رجحان عرصے سے دیکھنے کو مل رہاہے۔اس پر اب بات کرنے کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس سے فکر مند نہیں ہیں۔‘‘
اجیت پوار اور انل برپ کے خلاف انکوائری کیلئے بی جے پی کی قرارداد پر بھی این سی پی صدر کی تنقید: نائب وزیراعلیٰ اجیت پوار اور شیوسینا کے وزیر انل پرب کے خلاف سی بی آئی جانچ کیلئے بی جےپی کی مجلس عاملہ میں منظور کی گئی قرارداد پر سوال کے جواب میں شرد پوا رنے کہا ہے کہ ’’اپوزیشن کے ایک لیڈر کے خلاف جانچ کیلئے ایک قومی پارٹی کے ذریعہ قرارداد منظور کرنےکی بات میں نے اس سے پہلے کبھی نہیں سنی تھی۔‘‘ ریاستی بی جے پی کے سربراہ چندر کانت پاٹل پر طنز کرتے ہوئے شرد پوار نے کہا ہے کہ ’’وہ ایسی چیزیں کرسکتے ہیں جو اب سےپہلے کبھی نہ دیکھی گئی ہوں نہ سنی گئی ہوں، اس لئے ہمیں کوئی حیرت بھی نہیں ہے۔ ‘‘